سری نگر،30؍نومبر (ایس او یوز؍یو این آئی) پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انتخابات اور پولنگ کی شرح مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے - انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر حکومت وقت کے مطابق دفعہ370کے ہٹنے سے جموں و کشمیر کے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں تو 9لاکھ بھارتی فوجی کشمیر میں کیا کر رہے ہیں -محبوبہ مفتی جو عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کی نائب صدر بھی ہیں، اتوار کو یہاں اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں -انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا:الیکشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، الیکشن مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے - مجھے یہ جان کر خوشی ہوتی ہے کہ لوگ یہ سوچ کر ووٹ ڈالتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہوگی- میرا بھی ماننا ہے کہ دونوں کے درمیان بات چیت ہونی چاہئے-انہوں نے کہا:چین نے ہماری زمین پر قبضہ کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہم بات کرتے ہیں - طرفین کے درمیان مذاکرات کے دس ادوار ہوئے ہیں - لیکن سرحدوں پر لوگ مر رہے ہیں لیکن پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں ہوتی ہے - کیا آپ اس لئے بات نہیں کرنا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان ایک مسلم ملک ہے - یہاں اب ہر ایک چیز فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ گئی ہے - اب سردار خالصتانی، مسلم پاکستانی اور کشمیری دہشت گرد کہلائے جاتے ہیں - سب ایسے ہی چل رہا ہے -ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے پہلے مرحلے کے انتخابات میں اچھی خاصی ووٹنگ شرح کے بارے میں پوچھے جانے پر محترمہ مفتی نے کہا:ووٹوں کی شرح مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے - جب تک یہاں 9لاکھ فوجی تعینات ہیں مسئلہ کشمیر زندہ ہے - آپ ہندوستان کی کسی ایسی ریاست کا نام لیجئے جس میں اتنی تعداد میں فوجی تعینات ہیں - وہ بھی شہری علاقوں میں - آپ دیکھیں یہاں کتنے چیک پوائنٹس ہیں -ان کا مزید کہنا تھاکہ اگر دفعہ 370ہٹائے جانے کے بعد تمام مسائل حل ہو گئے ہیں تو فوج یہاں کیوں تعینات ہے؟ ان کو سرحدوں پر ہونا چاہئے تھا-